130

اننت ناگ: پسماندہ علاقے کے نوجوان نے کیا یو پی ایس سی کا امتحان پاس، کہا۔ ملک کے مسلم طبقے میں تعلیمی شعور پیدا کرنے کی ہے اشد ضرورت

ماجد اقبال نے مسلم نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی منزل کو طے کر کے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کی جانب گامزن ہو جائیں
اننت ناگ۔ ضلع صدر مقام اننت ناگ سے لگ بھگ 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع اندورہ شانگس کا پسماندہ گاؤں اس وقت لوگوں کی نظروں میں آگیا جب یہاں کے 25 سالہ نوجوان ماجد اقبال خان نے یو پی ایس سی کا امتحان کوالیفائی کر کے علاقے کے لئے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ ماجد ملک کے ایسے چند مسلم نوجوانوں میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے اس سال کے سول سروسز امتحانات میں اپنا کامیاب مقام حاصل کیا۔ ماجد پیشے سے ایک انجینئر ہیں اور انہوں نے اے،آئی،ای،ای،ای کے تحت تلنگانہ کے ایک کالج میں بی ٹیک میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر کے اپنی زندگی کا مقصد تو حاصل کیا تھا لیکن لوگوں کی فلاح و بہبود کی خواہش نے ان کو سول سروسز کی جانب راغب کیا۔ جسکے بعد ماجد نے سول سروسز امتحانات کے لئے تیاریاں شروع کیں اور 638 ویں رینک حاصل کیا۔

ماجد کا کہنا ہے کہ وہ یقینی طور پر سول سروسز جوائن کرینگے لیکن اگلے سال وہ پھر سول سروسز امتحان میں بیٹھ کر اپنے رینک کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرینگے۔ دراصل ماجد ایک پسماندہ گاؤں اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن انکے والد محمد اقبال خان جو کہ محکمہ زراعت میں نوکری کر رہے ہیں انکے لئے صحیح مشعل راہ ثابت ہوئے ہیں۔ ماجد کے مطابق انہوں نے بچپن سے ہی اپنے والد سے زندگی کو صحیح معنوں میں جینا سیکھا ہے اور انہیں کی بدولت آج وہ سول سروسز میں اپنا مقام بنانے کے اہل ہو گئے ہیں۔ جبکہ انکی والدہ رخسانہ پروین جو کہ محکمہ تعلیم میں تعینات ہیں نے ہمیشہ ماجد کی ہمت بڑھائی ہے۔

ماجد کے مطابق وہ ایک پسماندہ گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں جسکی وجہ سے انکی تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں کافی رکاوٹیں اور دقتیں درپیش آئیں۔ لیکن آج وہ اس بات سے خوش ہیں کہ انکی وجہ سے آج انکے اس پسماندہ گاؤں اندورہ کو ایک نئ پہچان مل گئی ہے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل یہ علاقہ اچانگ منظر عام پر آ گیا ہے۔ ماجد کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں کافی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن یہاں کے حالات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی مسلسل پابندی سے کئی باصلاحیت نوجوانوں کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے سے قاصر رہتے ہیں۔ماجد کے مطابق انٹرنیٹ آج کے دور میں تعمیر و ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہے لیکن کشمیر میں انٹرنیٹ کی عدم فراہمی یہاں کے نوجوانوں کے حصول تعلیم و دیگر چیزوں کےلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ماجد نے کشمیر سے باہر رہ کر سول سروسز امتحان کی تیاری کی۔
اننت ناگ۔ ضلع صدر مقام اننت ناگ سے لگ بھگ 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع اندورہ شانگس کا پسماندہ گاؤں اس وقت لوگوں کی نظروں میں آگیا جب یہاں کے 25 سالہ نوجوان ماجد اقبال خان نے یو پی ایس سی کا امتحان کوالیفائی کر کے علاقے کے لئے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ ماجد ملک کے ایسے چند مسلم نوجوانوں میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے اس سال کے سول سروسز امتحانات میں اپنا کامیاب مقام حاصل کیا۔ ماجد پیشے سے ایک انجینئر ہیں اور انہوں نے اے،آئی،ای،ای،ای کے تحت تلنگانہ کے ایک کالج میں بی ٹیک میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر کے اپنی زندگی کا مقصد تو حاصل کیا تھا لیکن لوگوں کی فلاح و بہبود کی خواہش نے ان کو سول سروسز کی جانب راغب کیا۔ جسکے بعد ماجد نے سول سروسز امتحانات کے لئے تیاریاں شروع کیں اور 638 ویں رینک حاصل کیا۔

ماجد کا کہنا ہے کہ وہ یقینی طور پر سول سروسز جوائن کرینگے لیکن اگلے سال وہ پھر سول سروسز امتحان میں بیٹھ کر اپنے رینک کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرینگے۔ دراصل ماجد ایک پسماندہ گاؤں اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن انکے والد محمد اقبال خان جو کہ محکمہ زراعت میں نوکری کر رہے ہیں انکے لئے صحیح مشعل راہ ثابت ہوئے ہیں۔ ماجد کے مطابق انہوں نے بچپن سے ہی اپنے والد سے زندگی کو صحیح معنوں میں جینا سیکھا ہے اور انہیں کی بدولت آج وہ سول سروسز میں اپنا مقام بنانے کے اہل ہو گئے ہیں۔ جبکہ انکی والدہ رخسانہ پروین جو کہ محکمہ تعلیم میں تعینات ہیں نے ہمیشہ ماجد کی ہمت بڑھائی ہے۔

ماجد کے مطابق وہ ایک پسماندہ گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں جسکی وجہ سے انکی تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں کافی رکاوٹیں اور دقتیں درپیش آئیں۔ لیکن آج وہ اس بات سے خوش ہیں کہ انکی وجہ سے آج انکے اس پسماندہ گاؤں اندورہ کو ایک نئ پہچان مل گئی ہے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل یہ علاقہ اچانگ منظر عام پر آ گیا ہے۔ ماجد کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں کافی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن یہاں کے حالات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی مسلسل پابندی سے کئی باصلاحیت نوجوانوں کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے سے قاصر رہتے ہیں۔ماجد کے مطابق انٹرنیٹ آج کے دور میں تعمیر و ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہے لیکن کشمیر میں انٹرنیٹ کی عدم فراہمی یہاں کے نوجوانوں کے حصول تعلیم و دیگر چیزوں کےلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ماجد نے کشمیر سے باہر رہ کر سول سروسز امتحان کی تیاری کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں