102

میرا فی الحال انتخابات لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں : عمر عبداللہ

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقد ہونے والے کل جماعتی میٹنگ میں واضح کیا کہ وعدہ خلافی کی وجہ سے جموں و کشمیر کے لوگوں میں عدم اعتماد پیدا ہوا ہے جس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا”میں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم (جواہر لال نہرو) نے رائے شماری کا وعدہ کیا پھر وعدے کو وفا نہیں کیا، وزیر اعظم نرسمہا را¶ نے اٹانومی کا وعدہ کیا وہ بھی نہیں دی گئی ۔لوگوں میں عدم اعتماد پیدا ہوا ، اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے “۔فاروق عبداللہ ہفتے کو یہاں عمر عبداللہ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہوئی میٹنگ کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا قدم تھا کہ جموں و کشمیر میں کس طرح حالات بہتر بنائے جائیں اور ایک سیاسی دور شروع کیا جائے ۔انہوں نے کہا”وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت اچھی رہی، سب نے اپنے اپنے خیالات سامنے رکھے ، یہ پہلا قدم تھا کہ کس طریقے سے جموں و کشمیر میں حالات کو بہتر بنایا جائے اور ایک سیاسی دور شروع کیا جائے “۔انہوں نے مزید کہا ”عدم اعتماد کی ایک سطح ہے ،ہمیں انتظار کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ (مرکز) کیا کرتا ہے، وہ عدم اعتماد کو ختم کردیں گے یا اسے جاری رکھنے دیں گے۔“عمر عبداللہ نے گپکار اتحادکے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا”ہمیں میٹنگ میں گپکار الائنس کے طور پر نہیں بلایا گیا تھا وہاں ہر پارٹی کو الگ الگ دعوت تھی جس میں الائنس کی رکن پارٹیاں بھی تھیں، ہم نے میٹنگ میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو الائنس کے ایجنڈے کے باہر رہی ہو“۔اس موقعہ پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کو قبول نہیں کیا ہے بلکہ ہم خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے آئینی اور قانونی طور پر لڑتے رہیں گے ۔موصوف نائب صدر نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں بتایا کہ لوگ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔انہوں نے کہا: ‘جنہوں نے ہم سے یہ خصوصی پوزیشن لی ہم لوگوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے کہ ہم ان ہی سے واپس لیں گے لیکن ہم اس کی بحالی کے لئے قانونی طور لڑتے رہیں گے جیسا کہ فاروق صاحب اور محبوبہ جی نے کہا کہ بی جے پی کو 70 برس یہ پوزیشن چھیننے میں لگ گئے ہمیں چاہئے کتنا عرصہ لگ جائے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یہ باتیں وزیر اعظم نے بھی سنیں’۔اسمبلی نشستوں کی حد بندی کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا: ‘نیشنل کانفرنس نے اس کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر فاروق صاحب کو مجاز بنایا ہے جب حد بندی کمیشن ان کی طرف رجوع کرے گا تو وہ اس کو خود ہی دیکھیں گے ‘۔انہوں نے کہا: ‘میٹنگ میں آزاد صاحب نے ہماری طرف سے کہا کہ پہلے حد بندی پھر ریاستی درجہ بحال ہونا چاہئے اور اس کے بعد چنا¶ ہونے چاہئے ، ہم اس بات پر زور دیتے رہیں گے ‘۔دفعہ 370 عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہونے کے متعلق پوچھے جانے پر ڈاکٹر فاروق نے کہا: ‘ہم نے دفعہ 370 عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہونے کی بات نہیں کی ،یہ بات صرف غلام نبی آزاد اور مظفر حسین بیگ نے کی’۔انہوں نے کہا کہ اس پر بحث ہونی چاہئے جب بابری مسجد کا مسئلہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت تھا تو کیا اس وقت بی جے پی اس پر بات نہیں کرتی تھی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ میرا فی الحال الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگ راحت کی سانس لینا چاہتے ہیں اور افسر ان کی بات سننا چاہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ جہاں ممکن ہو سکے ہمیں لوگوں کے یہ چیزیں ممکن بنانی ہوں گی۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر روح اللہ مہدی کی پارٹی سے ناراضگی کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہمارے درمیان ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں