124

ہند وپاک کے درمیان آبی تنازعہ | عالمی بینک کا ثالثی کرنے سے انکار

اسلام آباد//ہندپاک کے درمیان آبی تنازعہ پر عالمی بینک نے ثالثی کرنے سے انکار کردیاہے ۔ ورلڈ بینک نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت کے تقرر سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرنے سے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو دو طرفہ طور پر ایک آپشن کا انتخاب کرنا پڑے گا۔پاکستانی اخبار ’ڈان ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں اپنی پانچ سالہ میعاد پوری ہونے پر ورلڈ بینک کے سابق کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان پیٹچاموتھو ایلنگوان نے کہا،’ ’بھارت اور پاکستان دونوں کو مل جل کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا آپشن اپنانا ہے‘‘۔ ایلنگوان نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی عدالت (سی او اے) کی تقرری کے لیے درخواست دی تھی جب کہ بھارت نے دو پن بجلی منصوبوں پر ان کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر طلب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ1960 میں ہونے والے سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت دو متضاد پوزیشنز کی وجہ سے عالمی بینک دونوں حکومتوں کو اختلافات کے حل اور آگے بڑھنے کے لئے راہیں تلاش کرنے میں مدد فراہم کررہا تھا۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بینک اپنے کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ یہ 1960 کے معاہدے کا حصہ تھا، تو انہوں نے کہا ،’ ’معاہدے میں عالمی بینک کے آزادانہ فیصلہ لینے کا کوئی ذکر نہیں ہے‘‘۔ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے پر ترقیاتی کاموں کا حصہ بننے کا وعدہ کیا تھا اور پھر بھی اس نے دیامر۔باشا ڈیم کو فنڈ دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بینک داسو 1 اور2 کی طرح دریائے سندھ پر دوسرے منصوبوں کی حمایت کررہا ہے، بھارت نے ایک متنازعہ علاقے میں دیامر بھاشا کے مقام پر اعتراض اٹھایا تھا اور متنازع منصوبوں کی مالی اعانت کرنا عالمی بینک کی پالیسی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں